World
مکہ معاہدہ اور پاکستان کا کردار: تجزیہ کاروں کی تحسین
مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں اجتماعی دفاع اور سلامتی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسلامی دنیا کو اتحاد کا واضح پیغام دیتا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے مکہ معاہدے کے ساتھ پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور وابستگی کی بھرپور تحسین کی ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے کوئی بھی علاقائی جارحانہ عزائم نہیں ہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی ڈیٹرنس اور خطے میں پائیدار سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام مسلم ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی سمت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب، وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ اب عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس معاہدے کے تحت طے پانے والے امور نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی اہم تزویراتی حیثیت کو بھی مستحکم بناتے ہیں۔
ترکیہ کے صدر سمیت دیگر اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے بھی مکہ دفاعی معاہدے کو پوری مسلم دنیا کے لیے ایک طاقتور اور مثبت پیغام قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی سیاسی منظرنامے میں اس قسم کے معاہدے نہ صرف عسکری تعاون کو فروغ دیتے ہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک مضبوط اتحاد کی بنیاد رکھتے ہیں۔ پاکستان کا اس معاہدے میں بھرپور کردار اس بات کا غماز ہے کہ ملک خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔