Pakistan
وزیراعظم کا پمز اسپتال تحقیقاتی رپورٹ پر تین ماہ میں عمل درآمد کا حکم
وزیراعظم نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے المناک واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر تین ماہ کے اندر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سانحے کے بعد وزارت صحت کی کارکردگی اور نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں حفاظتی انتظامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد کے پمز (PIMS) اسپتال میں پیش آنے والے المناক واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ کی تمام سفارشات پر اگلے تین ماہ کے اندر لازمی عمل درآمد کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس امر کا اظہار وفاقی دارالحکومت میں صحت کے امور سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور انتظامی غفلت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اسپتال کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں لگنے والی آگ کی بنیادی وجہ اے سی کی کیبل میں خرابی بتائی گئی ہے، جس کے نتیجے میں چودہ معصوم جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔ اس دلخراش واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور طبی شعبے میں حفاظتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ رپورٹ کی روشنی میں نو میڈیکل پروفیشنلز اور عملے کے افراد کو فوجداری کارروائی کا سامنا ہے جبکہ متعلقہ وزارت کی کارکردگی پر بھی سینیٹ اور دیگر فورمز پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ متعلقہ حکام نے وزیرِ اعظم کو یقین دلایا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر تمام سفارشات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ مزید برآں، ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور برقی تنصیبات کے آڈٹ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے تاکہ مریضوں اور عملے کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔