LIVE
Loading Breaking News...

چین کا ایران اور امریکہ پر تحمل کا زور، مذاکرات کی بحالی کی اپیل

News Image
چین کے سینیئر سفارت کار نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکہ اور ایران سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ بیجنگ کا بھی اعلان کیا گیا ہے تاکہ دو طرفہ تعلقات اور اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
بیجنگ: چین کے اعلیٰ سفارت کار نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے مذاکرات کے عمل کو دوبارہ بحال کریں۔ چینی حکام نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ بیجنگ ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں خطے میں قائم امریکی اڈوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ان تمام محرکات کے پیش نظر بین الاقوامی برادری فریقین سے بار بار اپیل کر رہی ہے کہ وہ جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ اسی سلسلے میں اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر ایرانی وزیر خارجہ کا بدھ کے روز بیجنگ کا دورہ طے پایا ہے جہاں وہ چینی قیادت سے سرکاری سطح پر ملاقات کریں گے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان یہ اعلیٰ سطحی رابطہ موجودہ بحران کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی اس سفارتی کوشش کا مثبت جواب دیں۔