LIVE
Loading Breaking News...

یوریشیائی ممالک کا علاقائی تعاون اور شنگھائی تعاون تنظیم پر تبادلہ خیال

News Image
یوریشیائی ممالک نے موجودہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے دائرہ کار میں توسیع سے علاقائی سلامتی اور کثیر الجہتی سفارت کاری کو نیا فروغ مل رہا ہے۔
یوریشیائی ممالک کے درمیان علاقائی اور عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے حالیہ کوششوں میں تیزی آئی ہے، جس کا مقصد موجودہ چیلنجز سے نمٹنا اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ حالیہ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایک منقسم دنیا میں کثیر الجہتی نظام کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کو حاصل کیا جا سکے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اس پس منظر میں ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہی ہے جو نہ صرف روایتی سکیورٹی بلکہ معاشی اور سفارتی سطح پر بھی رابطوں کو وسعت دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایس سی او کا دائرہ کار اب دہشت گردی، انتہا پسندانہ نظریات اور دیگر علاقائی خطرات سے آگے نکل کر وسیع تر سٹریٹجک تعاون کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک اس پلیٹ فارم کو ایک کثیر القطبی دنیا (Multipolar World) میں اپنے معاشی اور سکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی اقتصادی اور سیاسی کشیدگی کے درمیان یوریشیائی خطے کی یہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ ممالک علاقائی استحکام کے لیے باہمی انحصار اور تعاون کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایس سی او کی یہ وسعت اور اس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی طاقتیں اب مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت کام کرنے کی خواہاں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے تعاون سے نہ صرف تجارت کے نئے راستے کھلتے ہیں بلکہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں بھی تیزی آتی ہے جو پورے یوریشیا کے لیے سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر کثیر الجہتی سفارت کاری کو درپیش چیلنجز کے باوجود، شنگھائی تعاون تنظیم جیسے ادارے اس بات کی ضمانت فراہم کرتے ہیں کہ علاقائی سطح پر مکالمے اور سفارت کاری کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ممالک اپنے سکیورٹی دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے معاشی شراکت داری کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔