LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے خطرات اور کنٹرول: انتروپک کا انتباہ

News Image
انتروپک کے شریک بانی نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کی خطرناک مصنوعی ذہانت کو کنٹرول کرنے کے لیے لازمی اقدامات اور کل سوئچز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کے انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی نے جہاں ایک طرف دنیا بھر میں انقلاب برپا کر دیا ہے، وہیں دوسری طرف اس کے تخلیق کاروں اور ماہرین کے اندر گہرے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ انتروپک کے شریک بانی ڈاریو امودی نے اپنے حالیہ بیانات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں اس 'فرنٹیئر' یا سرحدی ٹیکنالوجی کی رفتار کو مدبرانہ انداز میں سست کرنے اور اس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کچھ اے آئی انجینئرز جو کچھ بنا رہے ہیں، اس کے ممکنہ نتائج سے خوفزدہ ہیں اور وہ وقت رہتے اپنے خدشات کا کھل کر اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، مستقبل کے طاقتور اے آئی سسٹمز کو لگام دینے کے لیے لازمی طور پر ایک 'کل سوئچ' یا ایمرجنسی شٹ ڈاؤن میکانزم کو قانونی طور پر لازمی قرار دینا پڑ سکتا ہے۔ دی گارڈین اور سی این این کی رپورٹس میں بھی چھ نامور ماہرین کے حوالے سے انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ٹیکنالوجی انسانی بقا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ معاشی جریدے 'دی اکنامسٹ' کا بھی یہی خیال ہے کہ تمام بڑی ٹیک کمپنیوں اور ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کی سلامتی پر متفق ہونا اور مشترکہ ضابطہ اخلاق طے کرنا انتہائی مشکل امر ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی ترقی کی دوڑ میں اخلاقیات اور انسانی بقا کے اصولوں کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا، کیونکہ اگر یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے قابو سے باہر ہو گئی تو اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ ان حالات میں عالمی سطح پر ایک ایسے فریم ورک کی تیاری پر زور دیا جا رہا ہے جو نہ صرف ائ آئی کی ترقی کو یقینی بنائے بلکہ اس کے ممکنہ خطرات سے بھی انسانیت کو محفوظ رکھ سکے۔