Technology
منیسٹا واٹر ہیکنگ: امریکی ادارے کا تمام یوٹیلیٹیز کو اہم انتباہ
امریکہ کے سایبر سیکیورٹی ادارے نے منیسٹا کے واٹر سسٹمز پر حملوں کے بعد تمام یوٹیلیٹیز کو حساس سسٹمز آف لائن کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان حملوں کے پیچھے ممکنہ طور پر ایران کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
امریکی وفاقی ادارے سایبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی یعنی سیسا (CISA) نے جمعرات کے روز ملک بھر کے واٹر اور یوٹیلیٹی اداروں کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ اپنے ایسے تمام سسٹمز کو انٹرنیٹ سے فوری طور پر ہٹا دیں یا بند کر دیں جو بیرونی دنیا کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ یہ ہنگامی قدم ریاست منیسٹا کے پانی کے نظام پر ہونے والے مربوط سائبر حملوں کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، جن کے بارے میں امریکی حکام کا یہ شبہ ہے کہ ان کے پیچھے ایرانی عناصر کارفرما ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق، یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ کا اہم بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی ہیکرز کے نشانے پر ہے اور اس میں ڈیجیٹل کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ منیسٹا کے ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد وفاقی ایجنسی نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کیا ہے۔ سیسا نے واضح کیا ہے کہ جن سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے جائیں گے، ان کو آئندہ بھی ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹر یوٹیلیٹیز اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کے اداروں میں پرانی ٹیکنالوجی اور کمزور پاس ورڈز کا استعمال ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ہیکرز ان کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نظام تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جس سے شہریوں کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ امریکی تحقیقاتی ادارے اس بات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈیجیٹل ہتھکنڈے کس نوعیت کے تھے اور آیا ان کا تعلق کسی باضابطہ ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ہیکنگ گروپ سے ہے یا نہیں۔
سیسا اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں نے یوٹیلیٹی آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے نیٹ ورکس کی سیکیورٹی آڈٹ کریں، ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن کا نفاذ یقینی بنائیں اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کریں۔ امریکی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل دفاع کو مزید مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرناک سائبر حملوں کو روکا جا سکے۔