Business
امریکی فیڈرل ریزرو کا شرح سود میں اضافہ، مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش
امریکی مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں طویل عرصے کے بعد اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے پر سیاسی حلقوں اور معاشی ماہرین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
واشنگٹن: امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کے حکام نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق طویل عرصے کے بعد شرح سود میں یہ پہلا نمایاں اضافہ ہے جس کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کی رفتار کو روکنا اور معیشت کو استحکام دینا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ سرمایہ کار اس اقدام کے طویل مدتی اثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کے اس قدم پر سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ سابق صدر اور دیگر رہنماؤں نے مرکزی بینک کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، مرکزی بینک کے عہدیداروں کا اصرار ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اب بھی ایک تشویشناک حد تک بلند ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی فیصلے کرنا ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ عام شہریوں کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔
معاشی مبصرین کا ماننا ہے کہ شرح سود میں اضافے سے جہاں ایک طرف قرض لینا مہنگا ہو جائے گا، وہیں اس سے طلب میں کمی واقع ہوگی جس سے قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم، اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں معاشی سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے آئندہ ہونے والے اجلاسوں میں مزید معاشی اشاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔