LIVE
Loading Breaking News...

امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ

News Image
امریکہ میں تین سال کے طویل وقفے کے بعد شرح سود میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ متفقہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کڑی مخالفت اور شرح سود میں کٹوتی کے مطالبات کے باوجود سامنے آیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ میں اقتصادی صورتحال کے تناظر میں تین سال کے طویل عرصے کے بعد شرح سود میں باقاعدہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک اور متعلقہ مالیاتی حکام کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم ملکی معیشت میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور افراط زر کے کنٹرول کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالیاتی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنا اور اقتصادی ترقی کے رفتار کو متوازن رکھنا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی اعلیٰ ترین سطح پر پالیسی سازوں کے درمیان مالیاتی امور پر شدید بحث جاری تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اقدام ایک متفقہ فیصلے کے تحت اٹھایا گیا، جس میں تمام متعلقہ اراکین کی رائے شامل تھی۔ اس یکسوئی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی اداروں کے نزدیک اس وقت معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ مستقبل کے ممکنہ اقتصادی بحرانوں سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب، اس فیصلے پر سیاسی حلقوں بالخصوص ایوانِ صدر سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کی کھلے عام کڑی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے مرکزی بینک سے مطالبہ کیا تھا کہ شرح سود میں اضافے کے بجائے اس میں کٹوتی کی جائے تاکہ کاروبار اور عام عوام کو ریلیف مل سکے۔ تاہم، صدر کی شدید مخالفت اور دباؤ کے باوجود مالیاتی حکام نے ملکی مفاد اور اقتصادی اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود بڑھانے کا حتمی فیصلہ کیا۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق اس فیصلے کے ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ جہاں ایک طرف اس سے سرمایہ کاری کے رجحانات تبدیل ہو سکتے ہیں، وہیں دوسری طرف ڈالر کی قدر اور عالمی منڈی میں تجارتی سرگرمیوں پر بھی اس کے اثرات دیکھے جائیں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور مرکزی بینک کے درمیان اس مالیاتی پالیسی پر کشمکش کا معیشت پر مجموعی طور پر کیا اثر پڑتا ہے۔