World
سنگاپور میں لگژری اشیاء کی نیلامی، ضبط شدہ سامان کی اندرونی کہانی
بی بی سی نے سنگاپور کے ایک انتہائی محفوظ گودام کا دورہ کیا ہے جہاں پولیس کی جانب سے ضبط کی گئی قیمتی لگژری اشیاء رکھی گئی ہیں۔ ان ضبط شدہ اور نایاب اشیاء کو اب نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جن کی مالیت کروڑوں میں ہے۔
سنگاپور کے حکام نے حال ہی میں ایک ایسے خفیہ اور انتہائی محفوظ گودام تک رسائی دی ہے جہاں مجرمانہ سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں ضبط کی جانے والی لگژری اشیاء کا انبار لگا ہوا ہے۔ بی بی سی کی ایک خصوصی ٹیم نے اس قلعہ نما اسٹوریج فیسلٹی کا اندرونی دورہ کیا ہے اور ان قیمتی اشیاء کا قریب سے جائزہ لیا ہے جنہیں اب حکومت کی جانب سے نیلام کیا جا رہا ہے۔ ان اشیاء میں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز کے ہینڈ بیگز، نایاب اور قیمتی ہیرے جواہرات کے علاوہ دنیا کی نامور کمپنیوں کی لگژری گھڑیاں شامل ہیں۔ یہ تمام سامان سنگاپور پولیس کی جانب سے مختلف کارروائیوں کے دوران ضبط کیا گیا تھا، جہاں مجرمانہ نیٹ ورکس نے غیر قانونی دولت کو چھپانے کے لیے ان لگژری اثاثوں میں سرمایہ کاری کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیلامی کا مقصد ضبط شدہ اثاثوں کو ٹھکانے لگانا اور قانون کے مطابق ریاست کے خزانے میں رقم واپس لانا ہے۔ اس گودام میں موجود ہر ایک شے اپنے اندر ایک الگ کہانی رکھتی ہے، جہاں کروڑوں روپے مالیت کی گھڑیاں اور ہینڈ بیگز الماریوں میں قطار اندر قطار رکھے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی ملک میں مالیاتی جرائم کے خلاف جنگ کا ایک اہم حصہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ سنگاپور کے مالیاتی نظام کو غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے منی لانڈرنگ کے رجحان میں کمی آئے گی اور عالمی سطح پر سنگاپور کے مالیاتی نظام کی شفافیت مزید اجاگر ہوگی۔ نیلامی کے اس عمل میں دنیا بھر سے سرمایہ کار اور خریدار حصہ لے رہے ہیں، جو ان قیمتی اثاثوں کو خریدنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سنگاپور انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس نیلامی کے ذریعے بڑی مقدار میں فنڈز اکٹھے کیے جائیں گے جو ملکی قوانین اور ضابطوں کے عین مطابق ہوں گے۔