World
پاکستان نائٹ نیتل یونٹ آگ حادثہ رپورٹ اور انکشافات
پاکستان کے ایک اسپتال کے نائٹ نیتل یونٹ میں لگنے والی ہولناک آگ سے چودہ بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ فائر فائٹرز نے تصدیق کی ہے کہ یونٹ میں آگ بجھانے کے لیے نہ تو اسپرنکلرز موجود تھے اور نہ ہی کوئی فائر الارم سسٹم کام کر رہا تھا۔
پاکستان کے ایک اسپتال کے نائٹ نیتل یونٹ میں پیش آنے والے ہولناک حادثے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے، جہاں آگ لگنے کے نتیجے میں چودہ معصوم بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس حادثے کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹس اور فائر فائٹرز کے بیانات نے اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی اور حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک فائر فائٹر نے انکشاف کیا ہے کہ اس نائٹ نیتل یونٹ میں آگ سے بچاؤ کا کوئی بھی بنیادی نظام موجود نہیں تھا۔ یونٹ کے اندر نہ تو فائر الارمز نصب تھے اور نہ ہی ہنگامی صورتحال میں آگ پر قابو پانے کے لیے اسپرنکلرز کا کوئی انتظام تھا۔ امدادی کارروائیوں کے دوران فائر فائٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق یونٹ کے قریب موجود کئی دروازے مقفل پائے گئے، جس کی وجہ سے بروقت بچوں تک رسائی ناممکن ہو گئی اور امدادی راستہ شدید متاثر ہوا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث اس نقصان میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے طبی مراکز میں حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور غفلت کے پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شہری اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے المناک سانحات سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔