World
آبنائے ہرمز کی صورتحال، امریکی سینٹرل کمانڈ کا اہم بیان
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود اسٹریٹ آف ہرمز سے جہاز رانی کا عمل جاری ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوج صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ایک ترجمان نے واضح کیا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی اور مبینہ ناکہ بندی کی اطلاعات کے باوجود آبنائے ہرمز بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے تاحال کھلا ہوا ہے۔ یہ اہم بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس انتہائی حساس آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی گزرگاہ پر تناؤ پایا جاتا ہے اور دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ عالمی تجارت اور سپلائی چین کو کسی بھی قسم کے بڑے تعطل سے بچایا جا سکے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے خلیجی ممالک کا تیل دنیا کے مختلف حصوں کو روانہ ہوتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس خطے کے اندر سکیورٹی خدات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو بھی اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ تاہم، امریکی فوجی حکام کا اصرار ہے کہ عملی طور پر اس اہم ترین آبی گزرگاہ پر فی الحال کوئی مکمل رکاوٹ یا بحران موجود نہیں ہے جو تجارتی جہاز رانی کو مکمل طور پر روک سکے۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق، امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی اس خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل گشت کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی حلقوں نے بھی اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی طویل المدتی بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور معاشی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال کشیدہ ہے، لیکن اس کے باوجود بنیادی تجارتی راستے کھلے رہنا عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔