World
شام میں ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے اقتصادی بحران سنگین
شام میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے پہلے سے ہی پسے ہوئے عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایندھن کے نرخ بڑھنے سے ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔
شام میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی جنگ اور غربت کی چکی میں پستے ہوئے عوام کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ حال ہی میں ڈیزل اور پیٹرول کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کے بعد ملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی انتہائی مشکل کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری بدترین اقتصادی بحران کی وجہ سے لوگوں کے پاس بنیادی ضروریاتِ زندگی خریدنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس اضافے کا اثر براہ راست ہر اس شعبے پر پڑ رہا ہے جو نقل و حرکت یا زراعت سے وابستہ ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے کی وجہ سے سبزیوں، پھلوں اور دیگر غذایی اجناس کی منتقلی کے اخراجات بھی بڑھ چکے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف پر پڑ رہا ہے۔ دمشق اور دیگر شہروں میں لوگوں کا ماننا ہے کہ حکومتی فیصلوں کے بعد ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے کیونکہ آمدن کے ذرائع انتہائی محدود ہیں جبکہ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو شام میں انسانی اور اقتصادی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے، جس سے لاکھوں مزید افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ بین الاقوامی اداروں اور امدادی تنظیموں نے بھی شام کے اقتصادی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں عام شہریوں کی زندگی کو سہارا دینے کے لیے فوری اقتصادی اور امدادی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔