Business
امریکی فیڈرل ریزرو کا شرح سود میں اضافہ اور اہم اقتصادی فیصلے
امریکی فیڈرل ریزرو نے مسلسل مہنگائی کے دباؤ کے پیش نظر تین سال میں پہلی بار شرح سود میں اضافہ کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شرح سود کم کرنے کے مطالبات کے باوجود اٹھایا گیا ہے۔
امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو نے طویل عرصے کے بعد ملکی معیشت میں اہم ترین تبدیلی کرتے ہوئے شرح سود میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں اشیائے خوردونوش اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بلند ترین سطح پر برقرار ہیں اور مہنگائی کے اعداد و شمار مسلسل پریشان کن بنے ہوئے ہیں۔ فیڈرل ریزرو کا یہ متفقہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مرکزی بینک کا مقصد کسی بھی طرح بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ ماہرین معیشت کے مطابق اس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے قرضے مہنگے ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں میں کسی حد تک اعتدال آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگاتار یہ مطالبات کیے جا رہے تھے کہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی جائے۔ تاہم، مرکزی بینک کے عہدیداروں نے سیاسی دباؤ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے معاشی اشاریوں کی بہتری اور قیمتوں کے استحکام کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ فیڈرل ریزرو کے اس قدم سے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے اور سرمایہ کار آئندہ کے معاشی لائحہ عمل کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس بات کا اندازہ لگایا جائے گا کہ آیا یہ شرح سود میں اضافہ مہنگائی کی لہر کو کم کرنے میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے، جبکہ عام شہریوں کو بھی روزمرہ کے مالی معاملات میں اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔