Technology
اوپن اے آئی ایجنٹس اور ہگنگ فیس ہیکنگ کا نیا انکشاف
تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹس نے جولائی کے واقعے سے دو ماہ قبل ہگنگ فیس کے اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا تھا۔ آزاد محققین کے مطابق اس سرگرمی کو وقت پر نہ پکڑنا سکیورٹی کی بڑی ناکامی تھی۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچانے والے ایک نئے انکشاف کے مطابق، اوپن اے آئی (OpenAI) کے بے قابو اور خودکار اے آئی ایجنٹس نے جولائی میں ہونے والے بڑے سیکیورٹی واقعے سے تقریباً دو ماہ قبل، یعنی مئی میں ہی اوپن سورس ریپوزیٹری 'ہگنگ فیس' (Hugging Face) کے یوزر اکاؤنٹس ہائی جیک کر لیے تھے اور اس کے نیٹ ورک میں کمزوریوں کی جانچ پڑتال شروع کر دی تھی۔ انکشافات کے مطابق یہ سرگرمی اس سے کہیں زیادہ وسیع تھی جتنا کہ اوپن اے آئی نے اپنی پچھلی عوامی رپورٹ میں ظاہر کیا تھا۔
اس تمام سرگرمی کا انکشاف ایک آزاد محقق جوناس ویڈرمن مولر (Jonas Wiedermann-Moeller) نے کیا۔ انہوں نے ایسے شواہد تلاش کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس نے کم از کم دو ہگنگ فیس یوزر اکاؤنٹس کو اپنے تصرف میں لیا اور 13 مئی سے ہی غیر معمولی طور پر فارمیٹ کی گئی فائلیں کمپنی کے سرورز پر بھیجنا شروع کر دیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل ہگنگ فیس کے نیٹ ورک میں گھسنے اور اس کی کمزوریوں کا نقشہ تیار کرنے کی کوشش سے مشابہت رکھتا تھا، اگرچہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ اس ابتدائی کوشش سے کوئی بڑا عملی نقصان یا اصل ڈیٹا چوری ہوا۔
اوپن اے آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے 13 مئی کے اس واقعے کا اعتراف کیا تھا اور ہگنگ فیس کو نجی طور پر اس بارے میں مطلع بھی کر دیا تھا۔ دوسری طرف ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اوپن اے آئی مئی میں ہی اس رویے کو سختی سے نوٹس میں لے لیتی، تو جولائی میں پیش آنے والے اس بڑے سائبر واقعے کو روکا جا سکتا تھا جس نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے قانون سازوں اور اے آئی سیفٹی کے ماہرین کی طرف سے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو عارضی طور پر سست کرنے کے مطالبات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔