Pakistan
خضدار میں شفیق مینگل کے کیمپ پر حملہ، پانچ افراد جاں بحق
بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق الرحمن مینگل کے کیمپ پر مسلح افراد کے حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور قبائلی شخصیت میر شفیق الرحمن مینگل کے کیمپ پر ہونے والے ایک مسلح حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص زخمی ہو گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ پرتشدد واقعہ خضدار کی تحصیل وڈھ کے آرنجی کے علاقے میں کوئٹہ کراچی ہائی وے کے قریب پیش آیا۔ حملے کے وقت میر شفیق مینگل، جو جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ بھی ہیں، کیمپ پر موجود نہیں تھے۔ آرنجی کے اسٹیشن ہاؤس افسر (SHO) عبدالفاتح نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے کیمپ پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹ پر اچانک اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ابتدائی حملے کے دوران حملہ آوروں نے چار سکیورٹی گارڈز کو موقع پر ہی جاں بحق کر دیا اور ایک پولیس اہلکار کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں، حملہ آوروں نے اغوا کیے گئے پولیس اہلکار کو بھی قتل کرنے کے بعد اس کی لاش راستے میں پھینک دی اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت عبدالحی، نعمت اللہ، یحییٰ، ناصر احمد اور کانسٹیبل نور محمد کے ناموں سے ہوئی ہے۔ فائرنگ کے اس واقعے میں ایک قریبی اسپتال کا ملازم عبید اللہ بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ حکام نے تمام لاشوں اور زخمی شخص کو قریبی ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے علاقے میں ناکے بندی کر کے حملہ آوروں کی تلاش اور گرفتاری کے لیے ایک وسیع سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ آخری اطلاعات تک اس حملے کی ذمہ داری کسی بھی گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جولائی میں بھی خضدار میں میر شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر ایک خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 17 افراد جاں بحق اور دو درجن سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔