Pakistan
کراچی میں ناگوار بو کی وجوہات: ماہرین کا انکشاف
کراچی کے ساحلی علاقوں سمیت شہر کے مختلف حصوں میں محسوس کی جانے والی ناگوار اور مچھلی جیسی بو کی اصل وجہ سمندر میں فائٹو پلانکٹن نامی خوردبینی کائی کی سڑن اور موجودہ موسمی حالات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو مون سون کے اختتام پر پیش آتا ہے اور جلد ہی ختم ہو جائے گا۔
کراچی کے رہائشیوں، بالخصوص سمندر کے قریب مقیم افراد کو بدھ کی صبح ایک عجیب اور ناگوار بو کا سامنا کرنا پڑا جسے کئی شہریوں نے مچھلی جیسی بدبو سے تشبیہ دی۔ ماہرین کے مطابق فضا میں پھیلنے والی اس تیز بو کی بنیادی وجہ سمندر میں موجود خوردبینی سمندری کائی یعنی فائٹو پلانکٹن کی سڑن اور خطے کے موجودہ موسمی حالات ہیں۔ ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کے بحری وسائل کے تکنیکی مشیر محمد معظّم خان نے وضاحت کی کہ یہ مچھلی جیسی بدبو فائٹو پلانکٹن کے گلنے سڑنے کا نتیجہ ہے جو کہ ایک قدرتی طور پر پیش آنے والا عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ستمبر کے وسط میں علاقائی مون سون کا نظام ختم ہوتا ہے تو سمندری حالات میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں وافر مقدار میں پائے جانے والے یہ اجزاء سڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ فائٹو پلانکٹن سمندر کے اوپر والے سو میٹر میں پائے جاتے ہیں جہاں سورج کی روشنی پہنچتی ہے اور یہ انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہر کا کہنا تھا کہ یہ مظہر، جو کہ سنہ 2024 میں بھی دیکھا گیا تھا، ساحلی علاقوں کی فضا میں بدبو کا سبب بنتا ہے اور یہ بو عام طور پر چند دنوں میں خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر ضیغم اور موسمیاتی تبدیلی کی ماہر فاطمہ یمین نے اس بو کی شدت کی وجہ موسمی حالات اور ہوا کے دباؤ کو قرار دیا۔ فاطمہ یمین کا کہنا تھا کہ بھارت کے علاقے جام نگر کے ساحل کے قریب کم دباؤ کا ایک علاقہ موجود ہے جو کراچی کے ساحل کے ارد گرد ہوائیں گھما رہا ہے اور فضائی آلودگی کی وجہ سے یہ عمل اسموگ میں تبدیل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسموگ اور موسمی حالات کے اس امتزاج کی وجہ سے یہ بدبو پورے شہر میں گردش کر رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بھی کم دباؤ کے اس علاقے اور جنوب مشرقی ہواؤں کی سمت کی نشاندہی کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شام تک سمندری ہوائیں بحال ہونے سے ہوا کے معیار میں بہتری آ جائے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھی شہر بھر میں ایسی ہی بدبو محسوس کی گئی تھی جس سے کلفٹن، ڈی ایچ اے، پی ای سی ایچ ایس، کورنگی، اورنگی، نارتھ ناظم آباد اور صدر کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اس بو سے طویل المدتی صحت کے خطرات کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں، تاہم گرد آلود ہواؤں اور اس بدبو کے امتزاج سے سانس یا سینسائٹس کے مریضوں کو کچھ دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔