World
غزہ میں عمارت منہدم، 20 افراد جاں بحق اور درجنوں لاپتہ
غزہ سٹی کے علاقے تل الھوا میں ماضی کے حملوں سے متاثرہ چھ منزلہ عمارت کے گرنے سے پانچ بچوں سمیت بیس افراد جاں بحق ہو گئے۔ امدادی سرگرمیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ بھاری مشینری اور ضروری آلات غزہ میں داخل نہیں ہو پا رہے۔
فلسطینی حکام کے مطابق غزہ سٹی کے علاقے تل الھوا میں گزشتہ روز ایک چھ منزلہ رہائشی عمارت اچانک منہدم ہو گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ درجنوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ سول ڈیفنس ایجنسی کے حکام نے بتایا کہ اس عمارت کو پہلے ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران شدید ساختی نقصان پہنچا تھا، اور یہ عمارت رات کے وقت قریبی گھروں اور خیموں پر آ گِری۔ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ کم سن بچے بھی شامل ہیں جبکہ اس حادثے نے غزہ کے ان ہزاروں خاندانوں کو درپیش شدید خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے جو مجبوری کے تحت پہلے سے متاثرہ اور خستہ حال عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں اپنی بساط کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم عملے کو انتہائی محدود وسائل اور بنیادی آلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں ضروری بھاری مشینری اور آلات کی درآمد ناممکن بنا دی گئی ہے، جس کی وجہ سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق، بہت سے خاندان شدید سردی، بارش اور خیموں کی عدم دستیابی کے باعث ان خطرناک عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ بھر میں اس وقت تقریباً دو ہزار ایسی عمارتیں موجود ہیں جو شدید خستہ حال ہیں اور کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے غزہ آفس کے سربراہ الیسنڈرو مراکک نے کہا کہ صورتحال انتہائی المناک ہے کیونکہ امدادی کارکنان اور رضاکار ننگے ہاتھوں ملبے کی کھدائی کر رہے ہیں تاکہ زندوں یا شہداء کی لاشیں نکالی جا सकें। انہوں نے تنبیہ کی کہ آنے والے سردیوں کے موسم کے ساتھ ایسے حادثات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ سیکڑوں عمارتیں گرنے کے دہانے پر ہیں۔ دوسری جانب، سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر راید الدہشان نے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی خراب یا بمباری سے متاثرہ عمارت کے قریب ہرگز نہ جائیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے، تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ملبے کے نیچے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا عمل جاری رہے گا۔