LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا بھارتی جنگی جہاز کی دراندازی پر شدید احتجاج اور سفارتی ردعمل

News Image
پاکستان نے بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز کی جانب سے ملکی خصوصی اقتصادی زون میں غیر قانونی دراندازی اور ایک معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے بھارت سے دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز کی جانب سے ملکی خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں غیر قانونی دراندازی اور اشتعال انگیز کارروائی پر شدید سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارتی بحری جہاز نے 1991 کے دوطرفہ معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے، جس سے خطے میں امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی بحریہ کا جہاز آئی این ایس کولکتہ (INS Kolkata) اس واقعے میں ملوث بتایا جا رہا ہے جبکہ پاکستانی بحریہ کا جہاز پی این ایس حنین (PNS Hunain) بھی اس صورتحال کا حصہ بنا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جارحانہ کارروائیاں سمندر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور پاکستان اپنی سمحدود حدود اور سمندری خودمختاری کا دفاع کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ اس معاملے پر اسلام آباد میں موجود بھارتی سفارتی عملے کو طلب کرکے شدید تشویش سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے لیکن بھارتی فورسز کی طرف سے اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ دفتر خارجہ نے نئی دہلی پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات سے گریز کرے اور سمندری امور سے متعلق طے پانے والے تمام دوطرفہ معاہدوں کا احترام کرے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ملکی سمندری حدود کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔