LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا سعودی آئل ٹینکر اور پائپ لائن سیکیورٹی پر سخت مؤقف

News Image
پاکستان نے سعودی عرب میں اہم پائپ لائن کے قریب پھنسے ہوئے آئل ٹینکر پر کسی بھی قسم کے حملے کو براہ راست جنگی عمل قرار دے دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر ہونے والے ڈرون حملے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی سپلائی لائنز کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایک انتہائی سخت اور واضح مؤقف اپنایا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں اہم مشرق-مغرب پائپ لائن کے قریب پھنسے ہوئے آئل ٹینکر پر کسی بھی قسم کی جارحیت یا حملہ ریاست کے خلاف جنگی عمل تصور کیا جائے گا۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ سعودی پائپ لائن کو ممکنہ طور پر مکمل بحالی تک اگلے چھ ہفتوں تک بند رکھا جا سکتا ہے۔دوسری جانب، پاکستان کی وزارتِ توانائی اور متعلقہ ادارے خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے مدنظر متبادل اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس بحران کے دوران سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی حکام آئل ٹینکرز کے راستے کو اومان یا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں کی طرف موڑنے کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ملکی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے اور سمندری راستوں پر لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔دریں اثنا، وزیراعظم شہباز شریف نے مقدس شہر مکہ مکرمہ پر ہونے والے ڈرون حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حرمین شریفین کا تقدس اور خطے کا امن پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔