World
يمن میں حوثی کمانڈر کی طاقت میں اضافہ، عالمی تشویش برقرار
يمن میں حوثیوں کی حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بعد ایک پراسرار حوثی کمانڈر کی پوزیشن میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ان پیش رفتوں نے خطے میں سمندری گزرگاہوں کی سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
يمن میں حالیہ فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر کے اہم سمندری راستوں پر حوثی باغیوں کی کارروائیوں نے عالمی سطح پر ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے۔ ان پیش رفتوں کے دوران ایک انتہائی پراسرار اور اہم حوثی کمانڈر کا قد اور عسکری اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا ہے، جس پر بین الاقوامی عسکری تجزیہ کار گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف خطے کی سکیورٹی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے بلکہ اس نے سمندری تجارت کے اہم ترین راستوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس اور خطے کی صورتحال کا جائزہ لینے والے ماہرین کے مطابق، سالوں کی جنگ اور اندرونی بحرانوں کے باوجود حوثی تحریک عسکری اور سیاسی طور پر مزید مضبوط ہو کر ابھری ہے۔ ایران کی مبینہ حمایت یافتہ یہ تنظیم باب المندب جیسے انتہائی حساس اور کلیدی بحری گزرگاہ کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس پر يمن کی وزارتِ داخلہ اور دیگر علاقائی ممالک نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تناظر میں حوثی کمانڈر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس بات کی غماز ہے کہ عسکری حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔
امریکہ، مغرب اور دیگر عالمی طاقتیں اس سمندری راستے کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ دنیا کا ایک بڑا تجارتی قافلہ اس گزرگاہ سے ہو کر گزرتا ہے۔ حوثیوں کی طرف سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایسے میں پراسرار حوثی کمانڈر کی قیادت میں ہونے والی یہ کارروائیوں تنظیم کے اندر اس کے فیصلوں اور عسکری برتری کو مزید مستحکم کر رہی ہیں، جو آنے والے دنوں میں خطے کے امن کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔