Health
بریسٹ کینسر کی نئی دوا این ایچ ایس انگلینڈ میں متعارف
بریسٹ کینسر کے مریضوں کے لیے زندگی طویل کرنے والی دوا این ایچ ایس انگلینڈ میں باضابطہ طور پر فراہم کر دی گئی ہے۔ یہ دوا مریضوں کی زندگی میں اوسطاً سات ماہ کا مزید اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
برطانیہ میں بریسٹ کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں زندگی میں اضافہ کرنے والی جدید دوا اب انگلینڈ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) میں باضابطہ طور پر فراہم کی جا رہی ہے۔ اس دوا کو مریضوں کے لیے ایک نئی امید قرار دیا جا رہا ہے جو کینسر کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ دوا مریضوں کی زندگی میں اوسطاً سات ماہ تک کا مزید اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اس موذی مرض کے شکار افراد کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اس دوا کا نام 'انہیرتو' (Enhertu) ہے جو اس سے قبل اسکاٹ لینڈ میں دو سال سے زائد عرصے سے مریضوں کو تجویز کی جا رہی تھی اور وہاں کامیابی کے ساتھ دستیاب تھی۔ تاہم انگلینڈ کے مریض بھی اب اس جدید علاج سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔ طبی اداروں اور ماہرینِ صحت نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ہزاروں مریضوں کو نہ صرف بہتر طبی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ ان کی زندگی کے معیار اور دورانیے میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
حکومت اور طبی حکام کی جانب سے اس دوا کو این ایچ ایس کے فارمولری میں شامل کرنے کے بعد اسپتالوں میں اس کی فراہمی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے علاج میں اس قسم کی ادویات کی دستیابی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف مریضوں اور ان کے خاندانوں کو ریلیف ملے گا بلکہ طبی شعبے میں کینسر کے جدید علاج کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ این ایچ ایس کے تحت اس دوا کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق مریضوں تک یہ علاج بروقت پہنچ سکے۔