LIVE
Loading Breaking News...

بینک آف انگلینڈ کی مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے فیصلے

News Image
برطانیہ میں مہنگائی کی شرح میں متوقع اضافے کے پیش نظر ماہرین کا خیال ہے کہ بینک آف انگلینڈ رواں سال کے اختتام تک سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ اقتصادی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ مرکزی بینک کے لیے شرح سود کو مستحکم رکھنا اب مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے مرکزی بینک یعنی بینک آف انگلینڈ کو آنے والے دنوں میں معاشی محاذ پر انتہائی کڑے اور مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں اور ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا رجحان پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مرکزی بینک کو رواں سال کے اختتام تک شرح سود کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ اقتصادی اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کا دباؤ توقع سے زیادہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے روایتی حکمت عملیوں کے ساتھ ساتھ اضافی مالیاتی اقدامات کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ کے پالیسی سازوں کے سامنے اس وقت دوہری مشکل کھڑی ہے۔ ایک طرف جہاں مہنگائی کو ہدف کے اندر رکھنا مرکزی بینک کی بنیادی ذمے داری ہے، وہیں دوسری طرف شرح سود میں اضافے سے عام صارفین، کاروباری طبقے اور ہاؤسنگ مارکیٹ پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ معیشت کے کچھ شعبے پہلے ہی سست روی کا شکار ہیں اور مزید سختی سے کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی بینک کے اعلیٰ عہدیدار احتیاط سے قدم اٹھا رہے ہیں اور ہر آنے والے معاشی اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ مالیاتی منڈیوں میں اس صورتحال کے حوالے سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سرمایہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ بینک آف انگلینڈ کا آئندہ پالیسی اجلاس کیا لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ اگر مہنگائی کے دباؤ میں کمی نہ آئی تو مرکزی بینک کے پاس شرح سود کو طویل عرصے تک بلند رکھنے یا اس میں مزید اضافے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ آنے والے چند ہفتے برطانوی معیشت اور مانیٹری پالیسی کے مستقبل کے تعین کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے، جس پر ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی گہری نظر ہے۔