LIVE
Loading Breaking News...

فیس بک پوسٹ پر اجنبی کا گردہ عطیہ، خاتون کی کامیاب پیوند کاری

News Image
ایک خاتون نے سوشل میڈیا پر گردے کے عطیہ کے لیے التجا کی تھی جس کے جواب میں ایک مکمل اجنبی نے آگے بڑھ کر گردہ عطیہ کردیا۔ اس بروقت اور حیرت انگیز طبی امداد کے نتیجے میں مریضہ کی کامیاب پیوند کاری عمل میں آگئی ہے۔
جدید دور میں سوشل میڈیا کا درست استعمال کس طرح انسانی جانیں بچا سکتا ہے، اس کی ایک بہترین مثال حال ہی میں سامنے آئی ہے جہاں فیس بک پر کی جانے والی ایک التجا نے معجزاتی طور پر ایک خاتون کی زندگی بچا لی۔ ذرائع کے مطابق ایک شدید علیل خاتون کو گردے کی فوری ضرورت تھی اور ان کے اہل خانہ طویل عرصے سے موزوں ڈونر کی تلاش میں پریشان تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی تھی، جس کے بعد مجبوری کے عالم میں متاثرہ خاتون کی والدہ نے فیس بک پر ایک جذباتی پوسٹ شیئر کی اور لوگوں سے مدد کی اپیل کی۔ یہ پوسٹ جنگل کی آگ کی طرح سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور ہزاروں لوگوں تک پہنچی۔ اسی دوران ایک ایسے شخص کی نظر سے یہ پوسٹ گزری جو اس بیمار خاتون کے لیے مکمل طور پر اجنبی تھا۔ اس رحم دل اجنبی نے فیس بک پر اپیل پڑھنے کے بعد بغیر کسی ہچکچاہٹ کے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اپنی طبی جانچ پڑتال کروائی تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ اپنا گردہ عطیہ کرنے کے لائق ہے یا نہیں۔ تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹ اور میچنگ کے مراحل کامیابی سے طے پانے کے بعد ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ ڈونر بننے کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے۔ اس کے بعد اسپتال میں ایک پیچیدہ لیکن کامیاب سرجری کے ذریعے گردے کی پیوند کاری کا عمل مکمل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ عطیہ نہ صرف بروقت تھا بلکہ اس نے مریضہ کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ اس حیرت انگیز واقعے کے بعد دونوں خاندانوں نے اس اجنبی کے جذبہ خیر سگالی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے اور اسے انسانیت کی ایک روشن مثال قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا کا یہ مثبت استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی معاشرے میں درد دل رکھنے والے افراد کی کمی نہیں ہے جو ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔