LIVE
Loading Breaking News...

کیفین کے اثرات انسانوں پر مختلف کیوں ہوتے ہیں؟ سائنسی تحقیق

News Image
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کیفین کے جسم پر اثرات کا دارومدار افراد کی روزمرہ کی عادات، طرز زندگی اور جینیاتی خصوصیات پر ہوتا ہے۔ یہ حیاتیاتی فرق واضح کرتا ہے کہ کیوں کچھ لوگ کافی کے ایک کپ سے چاق و چوبند ہو جاتے ہیں جبکہ دوسروں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ صبح کا ایک کپ کافی یا چائے آپ کے دوست کو پورا دن توانائی فراہم کرتی ہے، جبکہ آپ پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا اور آپ آرام سے سو سکتے ہیں؟ سائنسدانوں نے اس دلچسپ سوال کا جواب تلاش کر لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا دارومدار صرف عادات پر نہیں بلکہ ہمارے جینز پر بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق کیفین کے انسانی جسم پر اثرات کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہوتے ہیں جن میں ذاتی طرز زندگی اور جسمانی ساخت نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی جسم میں کچھ ایسے جینیاتی عوامل موجود ہوتے ہیں جن پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ یہی جینیاتی خصلتیں طے کرتی ہیں کہ ہمارا جگر کیفین کو کتنی تیزی سے ہضم یا پراسیس کرتا ہے۔ جن افراد کے جینز کیفین کو تیزی سے توڑتے ہیں، وہ زیادہ مقدار میں کافی پینے کے باوجود پرسکون رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، جن لوگوں کا جسم کیفین کو سست رفتاری سے ہضم کرتا ہے، انہیں ایک ہی کپ سے گھبراہٹ، دل کی دھڑکن میں تیزی اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کیفین کے استعمال کی عادت بھی ایک بڑا عنصر ہے۔ جو لوگ باقاعدگی سے کیفین کا استعمال کرتے ہیں، ان کا جسم اس کا عادی ہو جاتا ہے اور روایتی مقدار اب انہیں وہ توانائی نہیں دیتی جو پہلے ملتی تھی۔ دوسری طرف، جو لوگ شاذ و نادر ہی کافی یا چائے پیتے ہیں، ان کا جسم کیفین کے اثرات کے لیے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی جسمانی برداشت اور جینیاتی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیفین کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ صحت کے کسی بھی ناخوشگوار مسئلے سے بچا جا سکے۔