Business
فیڈرل ریزرو چیئرمین کا ٹرمپ کے خلاف مؤقف، شرح سود میں اضافہ
امریکی صدر کی جانب سے شرح سود میں کٹوتیاں کرنے کے پرزور مطالبات کے باوجود فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں پچیس فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ اس اقدام سے مرکزی بینک کی خود مختاری اور صدر کی پالیسیوں کے درمیان کشمکش کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
امریکی سیاست اور اقتصادیات کے حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے ہاتھ سے نامزد کردہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین نے ان کی سخت مخالفت کو مسترد کرتے ہوئے شرح سود میں پچیس فیصد (0.25%) اضافے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر مسلسل اس بات پر زور دے رہے تھے کہ ملکی معیشت کو سہارا دینے اور ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے شرح سود میں کمی کی جانی چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل کئی بار کھل کر مرکزی بینک کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی اور توقع ظاہر کی تھی کہ ان کے مقرر کردہ عہدیدار ان کے معاشی ویژن کے مطابق فیصلے کریں گے۔ تاہم اس حالیہ قدم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فیڈرل ریزرو اپنی پالیسی ساز خود مختاری پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اضافہ افراط زر کو کنٹرول کرنے اور معیشت کو زیادہ گرم ہونے سے بچانے کے لیے ناگزیر تھا، چاہے اس کے سیاسی مضمرات کچھ بھی ہوں۔ اس فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس اور سینٹرل بینک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حامیوں کی طرف سے اس اقدام کو ایک تنقیدی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف معاشی ماہرین نے فیڈرل ریزرو کے اس فیصلے کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر ادارہ جاتی خودمختاری کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں مالیاتی منڈیوں میں بھی ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ سخت مانیٹری پالیسی مستقبل میں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرے گی یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے طویل المدتی اثرات امریکی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ پر واضح ہوں گے۔