LIVE
Loading Breaking News...

امریکی کانگریس کی روس کے خلاف سخت پابندیوں کی منظوری

News Image
امریکی کانگریس نے دو سال سے زائد عرصے میں پہلی بار یوکرین کی حمایت میں سخت اور جامع پابندیوں کا بل منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کا مقصد روس کو اقتصادی طور پر مزید دباؤ میں لانا اور یوکرین کی مدد کرنا ہے۔
واشنگٹن: امریکی کانگریس نے دو سال سے زائد کے طویل عرصے کے بعد یوکرین کی باضابطہ حمایت اور روس کو کڑی سزا دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور جامع پابندیوں کا بل منظور کر لیا ہے۔ یہ قانون سازی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ واشنگٹن میں یوکرین کے معاملے پر سیاسی عزم تاحال برقرار ہے اور قانون ساز روس کے خلاف معاشی دباؤ میں کسی بھی قسم کی کمی لانے کو تیار نہیں ہیں۔ بل کی منظوری کے بعد امریکی حکومت کو ماسکو کے خلاف اقتصادی اقدامات اٹھانے میں مزید قانونی معاونت حاصل ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ بل گزشتہ دو برسوں میں پہلا ایسا بڑا موقع ہے جب کانگریس نے یوکرین کی حمایت میں براہ راست اور اتنی بڑی قانون سازی کی ہے۔ اس بل کا بنیادی مقصد روسی معیشت کے اہم شعبوں کو ہدف بنانا اور ان تمام راستوں کو بند کرنا ہے جن کے ذریعے روس اپنی جنگی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مالی وسائل حاصل کر رہا ہے۔ امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں نے اس قانون کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے منظور کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر ایک واضح پیغام دیا جا سکے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بل کے نفاذ سے روس پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوگا اور اس سے ماسکو کی جنگی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ دوسری جانب کیف میں اس امریکی اقدام کا خیرمقدم کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ یوکرین طویل عرصے سے اپنے مغربی اتحادیوں بالخصوص امریکہ سے مزید فوجی اور معاشی امداد اور روس پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر جلد ہی اس بل پر باضابطہ دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دیں گے، جس کے بعد اس پر فوری عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔