World
امریکی سینٹکام: آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی مؤثر
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے الجزیرہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں کی جانے والی ناکہ بندی انتہائی مؤثر ہے۔ اس اہم بیان سے عالمی تجارتی اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
واشنگتن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ترجمان نے عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کی جانے والی ناکہ بندی انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کی صورتحال اور بحری جہاز رانی کے امور کو لے کر بین الاقوامی سطح پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی فوجی حکام کی جانب سے اس حکمت عملی کو نتیجہ خیز قرار دینا خطے میں طاقت کے توازن اور مواصلاتی راستوں پر کنٹرول کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ اس گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی سختی یا ناکہ بندی عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ امریکی سینٹکام کا یہ دعویٰ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عسکری ادارے خطے میں اپنے اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے انتہائی سخت نگرانی اور دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دوسری جانب، اس بیان کے بعد خطے کے دیگر ممالک اور بین الاقوامی سفارتی حلقوں کی طرف سے بھی ردعمل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ تجزیہ کار اس پیشرفت کو مشرق وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، جہاں توانائی کے ذخائر اور سمندری راستوں کی سکیورٹی ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی اولین ترجیح رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ناکہ بندی کے معاشی اور سیاسی اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔