World
اسرائیل اور مراکش کے درمیان سفارتی تعلقات اور سفارت خانے کھولنے کا فیصلہ
اسرائیل اور مراکش نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے باضابطہ طور پر سفارت خانے کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر کی بحالی اور براہ راست تجارتی پروازیں شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
اسرائیل اور مراکش نے اپنے دو طرفہ سفارتی تعلقات کو تاریخی بلندیوں پر لے جانے کا تہیہ کرتے ہوئے باضابطہ طور پر سفارت خانے کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا مقصد دونوں ممالک کے مابین سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جانا ہے، جس سے خطے میں امن اور استحکام کے حوالے سے بھی نئے راہیں کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں حکومتوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ باہمی اعتماد کی فضا کو مزید مضبوط کیا جائے۔ اس معاہدے کے تحت فریقین نے فضائی سفر کو وسیع کرنے اور فوری طور پر براہ راست تجارتی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ کاروباری برادری کے لیے بھی ایک دوسرے کے ممالک تک رسائی انتہائی آسان ہو جائے گی۔ دونوں ممالک کے تاجر اور سرمایہ کار اب بغیر کسی دشواری کے براہ راست سفر کر سکیں گے جس سے دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بڑی تبدیلی کی غمازی کرتا ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی تھی لیکن اب سفارت خانوں کا قیام اور فضائی روابط کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک عملی اقدامات کے ذریعے اپنے تعلقات کو پائیدار بنیادیں فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مزید وفود کے تبادلے ہوں گے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے معاہدے بھی طے پائیں گے۔