LIVE
Loading Breaking News...

سعودی اتحاد کا حوثیوں پر مکہ مکرمہ پر حملے کا الزام اور ریڈ لائن کی وارننگ

News Image
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے حوثی باغیوں پر مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جسے حوثیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ اس واقعے پر دنیا بھر کے مسلم ممالک کی طرف سے شدید مذمت کا اظہار کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں یمن کے حوثیوں کے خلاف برسرپیکار عسکری اتحاد نے بدھ کے روز حوثی باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد پوری اسلامی دنیا میں شدید اشتعال پھیل گیا ہے اور خطے میں جاری تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔ سعودی اتحاد کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے اس حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا، تاہم اس جارحیت نے ایک نئی جنگی صورتحال کو جنم دے بحران کو سنگین بنا دیا ہے۔ حوثی رہنماؤں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک جھوٹ قرار دیا ہے، لیکن سعودی اتحاد نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ ان کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر ’ریڈ لائن‘ ہے۔ اس سنگین صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی پرزور مذمت کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بروقت کارروائی کو سراہا۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور حرمین شریفین کے تقدس کے دفاع کے لیے ہمیشہ برادر ملک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس حملے کو مسلم امہ کے جذبات کے منافی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) نے بھی اس مذموم کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور دنیا بھر سے امن کی اپیل کی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں یمن میں جاری خانہ جنگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے جس کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ مصر اور دیگر عالمی معیشتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ سعودی اتحاد نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری اور خطے کے امن کو بچانے کے لیے تمام ضروری آپریشنل اقدامات جاری رکھے گا تاکہ اس قسم کی انتہا پسندانہ کارروائیوں کا بھرپور سدباب کیا جا سکےـ