Pakistan
کراچی کے ساحل پر بدبو کی وجہ سمندری پودوں کی ہلاکت
کراچی کے ساحلی علاقوں میں محسوس کی جانے والی شدید بدبو کی وجہ سمندری طحبی پودوں یعنی فائٹو پلانکٹن کی بڑی تعداد میں ہلاکت ہے۔ سمندری درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث یہ پودے مر کر گل سڑ رہے ہیں جس سے ساحل پر ناگوار بو پھیل گئی۔
کراچی کے ساحلی علاقوں اور بالخصوص کلفٹن کے آس پاس کے مقامات پر حالیہ دنوں میں محسوس کی جانے والی شدید اور ناگوار بدبو کی اصل وجوہات کا انکشاف کر دیا گیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اور متعلقہ اداروں کے مطابق اس بدبو کا تعلق سمندری پانی میں پائے جانے والے خوردبینی پودوں یعنی فائٹو پلانکٹن کی گلنے سڑنے کے عمل سے ہے۔ سمندر کے درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں نے اس صورتحال کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان سمندری پودوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو کر ساحل کے قریب جمع ہو رہی ہے۔ فائٹو پلانکٹن سمندری ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں جو عام حالات میں پانی کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ تاہم، جب سمندری درجہ حرارت معمول سے ہٹ کر تبدیل ہوتا ہے یا پانی میں آکسیجن کی سطح متاثر ہوتی ہے، تو ان پودوں کی افزائش اور بقا کا عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔ اس بار درجہ حرارت میں نمایاں تبدیلی کے باعث فائٹو پلانکٹن کی بڑی تعداد نے ایک ساتھ دم توڑ دیا، جس کے نتیجے میں ان کے تحلیل ہونے سے یہ ناگوار اور تیز بو فضا میں پھیل گئی۔ شہری اس بو کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہو گئے تھے اور انتظامیہ سے اس کے اسباب جاننے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سمندری ماحول میں ہونے والی ایسی تبدیلیاں عارضی ہوتی ہیں اور موسم کی بہتری کے ساتھ ہی یہ صورتحال خود بخود بہتر ہو جاتی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سمندری آلودگی اور ماحولیاتی تغیرات کے ساحلی حیات پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ متعلقہ محکمے ساحلی پٹی کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی ماحولیاتی صورتحال سے نمٹا جا سکے، جبکہ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس قدرتی عمل سے گھبرائیں نہیں کیونکہ یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔