LIVE
Loading Breaking News...

کے پی کے سی ایم سہیل آفریدی پر وزیر آباد میں حملے کی کوشش کا دعویٰ

News Image
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر آباد میں ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے واقعے کے بعد ایک گرفتار شخص کی شناخت کانسٹیبل کے طور پر کر لی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے سولہ ستمبر دو ہزار چھبیس کو جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو بیان میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر آباد کے دورے کے دوران ان کی جان لینے کی ایک باقاعدہ کوشش کی گئی۔ اس ویڈیو بیان کے سامنے آنے کے بعد ملکی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف سیاسی شخصیات کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ واقعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی حکام نے بھی فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ دوسری جانب گوجرانوالہ پولیس نے اس واقعے کے تناظر میں کارروائی کرتے ہوئے موقع پر قابو کیے گئے ایک مشکوک شخص کی شناخت بطور پولیس کانسٹیبل کر لی ہے۔ ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والے اہلکار نے گرفتاری کے وقت اپنا پولیس کارڈ بھی دکھایا تھا تاہم اس کے باوجود وہاں موجود افراد اور سکیورٹی عملے نے مبینہ طور پر اس پر تشدد کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ سکیورٹی کی کوئی بڑی کوتاہی تھی یا اس کے پیچھے کوئی مجرمانہ سازش کارفرما تھی۔ پولیس نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ پکڑے جانے والے سکیورٹی اہلکار کو کسی بھی طرح سے قاتل یا حملہ آور قرار دیا جائے، کیونکہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ اہلکار وہاں سرکاری ڈیوٹی پر مامور ہو سکتا ہے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اس بیان کے بعد صوبائی اور وفاقی سطح پر سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ عوام کی نظریں بھی اس واقعے کی حتمی تحقیقات پر لگی ہوئی ہیں۔