LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں سبزیوں کے تیل کے درآمدی ٹیکس میں کمی کا امکان

News Image
بھارت میں سبزیوں کے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے درآمدی ٹیکس میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت اس اقدام سے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
نئی دہلی: بین الاقوامی منڈی میں اشیائے خورونخود اور سبزیوں کے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر بھارتی حکومت نے اس شعبے میں درآمدی ٹیکس کم کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ملک میں خوردنی تیل کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے حکومتی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی موثر قدم اٹھائے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدی ڈیوٹی میں کمی سے ملکی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں مدد ملے گی اور مہنگائی کی شرح میں بھی کچھ کمی واقع ہوگی۔ بھارت اپنی ضرورت کا ایک بڑا حصہ بیرونی ممالک سے درآمد کرتا ہے، جس میں پام آئل، سویا بین آئل اور سورج مکھی کا تیل شامل ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی چین کے مسائل اور پیداوار میں کمی کے باعث ان تیلوں کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت کے متعلقہ حکام موجودہ ٹیکس ڈھانچے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کس مخصوص تیل پر کتنا ٹیکس کم کیا جائے تاکہ کسانوں کے مفادات بھی متاثر نہ ہوں اور صارفین کو بھی براہ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس فیصلے کے حامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر درآمدی ٹیکس کم کر دیے جاتے ہیں تو اس سے تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی مہنگائی کے رجحان پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ تہواروں کے سیزن یا آنے والے مہینوں میں صارفین کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے اور قیمتیں ایک معقول سطح پر برقرار رہیں۔ وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکمے اس معاملے پر حتمی مشاورت مکمل کرنے کے قریب ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔