LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم، ساؤدی عرب کا بڑا اقدام

News Image
ساؤدی عرب کی طرف سے پائپ لائن پر حملے کے بعد شپ ٹو شپ خام تیل کی منتقلی کی پیشکش کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے سپلائی کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے اور سرمایہ کاروں نے مارکیٹ کے حالات کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا تسلسل بدستور جاری ہے کیونکہ ساؤدی عرب کی جانب سے بحران سے نمٹنے کے لیے شپ ٹو شپ خام تیل کی منتقلی کی اہم پیشکش کی گئی ہے۔ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں اہم پائپ لائن پر ہونے والے حملے کے بعد سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے تھے اور تجزیہ کاروں نے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا انتباہ جاری کیا تھا۔ تاہم، ریاض کی جانب سے فوری متبادل اقدامات اور عمان کے راستے تیل کی ری روٹنگ جیسی کوششوں نے سرمایہ کاروں کو کچھ حد تک ریلیف فراہم کیا ہے، جس کی وجہ سے تیل کے سودے چار ماہ کی بلند ترین سطح سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثیوں کے حملوں نے خطے میں توانائی کی سپلائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس صورتحال نے سعودی عرب کو عارضی طور پر سکیورٹی اور لاجسٹک چیلنجز کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے ایران کے حامی گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود، سعودی حکام کی جانب سے بروقت حکمت عملی اپناتے ہوئے عالمی خریداروں کو متبادل راستوں اور ذرائع سے تیل کی فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تاکہ منڈی میں کسی بھی قسم کے بڑے بحران کو روکا جا سکے اور قیمتوں کے عدم استحکام پر قابو پایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ ریلیف اور متبادل انتظامات نے قیمتوں کو وقتی طور پر سنبھالا دیا ہے، لیکن خطے کی موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔ تیل کی منڈیوں سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ سپلائی چین کے تحفظ اور پیداواری تسلسل کے حوالے سے آئندہ آنے والے ہفتے انتہائی اہم ہوں گے۔ سرمایہ کار انتہائی احتیاط کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ کسی بھی مزید واقعے یا حملے کی صورت میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر اوپر کی طرف جا سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔