Technology
یورپی یونین کا بچوں کے لیے سوشل میڈیا اور اے آئی چیٹ بوٹس پر پابندی کا ارادہ
یورپی یونین نے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ نئے مجوزہ قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
یورپی یونین بچوں کے تحفظ اور ان کی ذہنی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے ایک انتہائی اہم قانون سازی کے قریب پہنچ گئی ہے۔ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، یورپی یونین کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، 15 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے لیے بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی کو محدود کرنے اور سخت پیرنٹل کنٹرول یعنی والدین کی منظوری کے طریقہ کار کو نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس مجوزہ قانون کا بنیادی مقصد کم عمر بچوں کو انٹرنیٹ کے منفی اثرات، سائبر بولنگ اور خطرناک آن لائن مواد سے محفوظ بنانا ہے۔موجودہ ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی کمپنیاں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں کو اپنے سحر میں جکڑ رہے ہیں، جس کے اثرات ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر مرتب ہو رہے ہیں۔ یورپی یونین کے اس نئے مسودے میں صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی چیٹ بوٹس (AI Chatbots) تک کم عمر بچوں کی رسائی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ انہیں اب سختی کے ساتھ عمر کی تصدیق (Age Assurance) کے سسٹمز کو لاگو کرنا ہوگا۔یورپی یونین کا یہ قدم بچوں کے حقوق اور ان کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس قانون کو حتمی شکل دینے اور تمام رکن ممالک میں نافذ کرنے کے لیے مزید بحث اور قانونی مراحل درکار ہوں گے، تاہم ابتدائی خاکہ سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں اس پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ والدین اور بچوں کے حقوق کے ادارے اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے انٹرنیٹ انڈسٹری میں ضابطہ اخلاق کی ایک نئی جنگ شروع ہو جائے گی۔