World
سودی عرب کا مکہ مکرمہ حملہ کوشش پر سخت ردعمل، حوثیوں کا انکار
سودی عرب نے مکہ مکرمہ پر ہونے والی مبینہ حملے کی کوشش کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اسے سرخ لکیر قرار دیا ہے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
ریاض: سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر حملے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے اسے ایک واضح 'ریڈ لائن' قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مملکت کے مقدس مقامات کی سیکیورٹی کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس قسم کی جارحیت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سعودی حکومت نے اس حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مبینہ حملے کی کوشش سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حوثی رہنماؤں کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ وہ اس طرح کی کسی بھی کارروائی میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی کوئی منصوبہ بندی کی ہے۔
اس واقعے کے بعد خطے میں سیاسی و عسکری کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق حرمین شریفین کی سلامتی پوری امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی حساس معاملہ ہے، اس لیے اس قسم کے واقعات خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔