Business
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفیسٹ جولائی اگست میں کم ہو گیا
رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں پاکستان کے جاری حساب کتاب کے خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگست کے مہینے میں 98 ملین ڈالر کا خسارہ جبکہ مجموعی طور پر دو ماہ کا خسارہ 543 ملین ڈالر تک محدود رہا۔
پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ایک مثبت خبر سامنے آئی ہے جہاں رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ یعنی جولائی اور اگست کے دوران ملک کے جاری حساب کتاب (کرنٹ اکاؤنٹ) کے خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی ذرائع کے مطابق اس مدت کے دوران مجموعی جاری حساب کتاب کا خسارہ 36 فیصد کم ہو کر 543 ملین ڈالر تک محدود ہو گیا ہے۔ یہ بہتری ملک کے بیرونی کھاتوں کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے کے سکڑنے سے ملکی معیشت پر پڑنے والا دباؤ کم ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صرف ماہ اگست کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 98 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ جولائی اور اگست کے دو ماہ کے عرصے میں پاکستان کی اشیائے خرد و نوش اور دیگر اشیا کی برآمدات میں 7 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ مجموعی تجارتی خسارے میں بھی سکڑاؤ آیا ہے۔ بین الاقوامی تجارت اور معاشی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملکی برآمدات میں بہتری اور درآمدات کے کنٹرول کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
علاوہ ازیں، دوطرفہ تجارت کے اعداد و شمار سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی خسارے میں بھی دو ماہ کے دوران 18.37 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ تجارتی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے ان اعداد و شمار کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر برآمدی شعبے کو اسی طرح فروغ ملتا رہا اور ترسیلاتِ زر میں استحکام رہا تو آنے والے مہینوں میں ملکی معیشت مزیدریسٹوریشن کی طرف گامزن ہو گی۔
حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے درآمدی پالیسیوں پر سختی اور برآمد کنندگان کے لیے سہولیات کی فراہمی اس بہتری میں بنیادی محرک ثابت ہوئی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانی معیشت کا اس طرح ریکور کرنا خوش آئند ہے۔ کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں نے بھی ان اعداد و شمار پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں معاشی اشاریے مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔