Technology
مائیکل بیری کا مصنوعی ذہانت اور آئی پی او کی حکمت عملی پر اہم بیان
مشہور سرمایہ کار مائیکل بیری کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خاتمے سے متعلق ڈراؤنی پیشگوئیاں دراصل خود غرضانہ نوعیت کی آئی پی او حکمت عملی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے بیانات کا مقصد مارکیٹ میں غیر ضروری خوف پیدا کرکے مالیاتی فوائد حاصل کرنا ہے۔
وال اسٹریٹ کے مشہور سرمایہ کار مائیکل بیری نے مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ خاتمے سے متعلق ہونے والی بحث میں ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے جڑے خطرات اور دنیا کے خاتمے کی پیشگوئیاں دراصل کوئی سائنسی حقیقت نہیں بلکہ چند مفاد پرست عناصر کی جانب سے اپنائی گئی خود غرضانہ آئی پی او حکمت عملی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے بڑے نام اور کچھ انجینئرز جان بوجھ کر اس قسم کے خوفناک بیانات جاری کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے ابتدائی پبلک آفرنگز (IPOs) کے دوران مارکیٹ میں اپنی اہمیت کو منوا سکیں اور مالیاتی فوائد حاصل کر سکیں۔ حالیہ مہینوں میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور انسانیت کو درپیش خطرات پر دنیا بھر میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ جہاں ایک طرف متعدد سائنسدان اور انجینئرز اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ اپنی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہیں اور حکومتوں سے سخت ضابطہ اخلاق کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہیں مائیکل بیری کا مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ تمام خدشات اور انتباہات بڑھتے ہوئے مقابلے اور سرمائے کے حصول کے لیے ایک چال کے علاوہ کچھ نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جاری یہ بحث اب ٹیکنالوجی سے نکل کر معاشی اور کاروباری مفادات کی جنگ بنتی جا رہی ہے۔ جہاں ایک جانب اس ٹیکنالوجی کے بے پناہ مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں، وہیں دوسری جانب اس کے غلط استعمال یا اس پر بے قابو ہونے کے خدشات کو بھی مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، بیری جیسے ناقدین کا اصرار ہے کہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے پیچھے خالصتاً کاروباری اور تجارتی مفادات کارفرما ہیں۔ اس صورتحال نے صنعت کے اندرونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت سے متعلق خوف کے پیغامات حقیقت پر مبنی ہیں یا پھر محض ایک مارکیٹنگاسٹنٹ ہیں۔