Business
امریکی فیڈرل ریزرو کا فیصلہ: اسٹاک مارکیٹ اور فیوچرز کا احوال
امریکی مرکزی بینک کی جانب سے طویل عرصے بعد شرح سود میں اضافے کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی۔ تاہم بعد ازاں اسٹاک فیوچرز میں بہتری کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے تین سال کے طویل وقفے کے بعد کلیدی شرح سود میں اضافے کا اعلان کیے جانے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس فیصلے کے فوراً بعد وال اسٹریٹ اور دیگر بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں ڈائو جونز انڈیکس میں چھ سو سے زائد پوائنٹس کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک کا یہ قدم توقع کے عین مطابق تھا لیکن اس کے مارکیٹ پر فوری منفی اثرات مرتب ہوئے۔
مارکیٹ میں اس ابتدائی فروخت کے دباؤ کے بعد، اب اسٹاک فیوچرز میں کچھ بہتری اور بحالی کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے فیڈرل ریزرو کے سربراہان کے بیانات اور مستقبل کی مانیٹری پالیسی کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مہنگائی کی شرح ہنوز بلند سطح پر برقرار ہے، جس کی وجہ سے مرکزی بینک کو آئندہ بھی سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں میں تاحال احتیاط کا عنصر غالب ہے اور وہ ہر نئی معاشی رپورٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اس صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو کا از سر نو جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ بانڈز اور کرنسی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ شرح سود میں اضافے سے ادھار کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا براہ راست اثر کارپوریٹ پرافٹ اور کاروباری ترقی پر پڑتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا امریکی معیشت اس سخت مالیاتی پالیسی کو برداشت کرتے ہوئے افراط زر پر قابو پانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔