World
اسپین کا سبتہ میں سرحد پر تیرتی ہوئی رکاوٹ لگانے کا فیصلہ
مراکش کی سرحد سے ہجرت کی بڑی لہر کے بعد سبتہ میں ایک پرامن رات گزری، جس کے بعد اسپین نے سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے سمندری حدود میں تیرتی ہوئی رکاوٹ نصب کر دی ہے۔ اس دوران یورپی یونین کے بعض ممالک کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ زیادہ تر تارکین وطن واپس جا چکے ہیں۔
اسپین کے خود مختار علاقے سبتہ (Ceuta) میں مراکش کی سرحد سے تارکین وطن کے غیر معمولی داخلے کے بعد ایک نسبتاً پرامن رات گزری ہے۔ حالیہ دنوں میں ہزاروں افراد کے سرحد عبور کرنے کے واقعے نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی تھی، جس کے بعد ہسپانوی حکام نے حفاظتی اقدامات کو فوری طور پر مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین اقدام کے تحت سمندری حدود میں ایک تیرتی ہوئی رکاوٹ (floating barrier) نصب کر دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی راستوں سے ہونے والی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔اسپین کی حکومت نے اس معاملے پر یورپی یونین کے کچھ ممالک کے 'خود غرضانہ' ردعمل پر سخت تنقید کی ہے، جن کا کہنا تھا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور منصفانہ کوششوں کی ضرورت تھی۔ رپورٹ کے مطابق، سبتہ میں داخل ہونے والے دگنے سے زائد افراد میں سے اکثریت اب اپنے وطن واپس جا چکی ہے، تاہم یہ بحران یورپی ممالک کے درمیان سرحدی انتظام اور ہجرت کے قوانین پر ایک بار پھر گہرے سوالات چھوڑ گیا ہے۔ اٹلی نے بھی اس صورتحال کے پیش نظر اسپین کے ساتھ شینگن معاہدے کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے یورپی یونین کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کے مستقبل پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔سبتہ اور ملیلیہ جیسے علاقے تاریخی طور پر افریقہ اور یورپ کے درمیان ہجرت کے اہم ترین فلیش پوائنٹس رہے ہیں۔ مراکش کی سرحد سے ملحق ہونے کی وجہ سے یہ علاقے اکثر تارکین وطن کے لیے یورپ میں داخل ہونے کا سب سے آسان زمینی زمینی اور سمندری راستہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یورپی ممالک اور شمالی افریقی ریاستوں کے درمیان طویل مدتی اور موثر تعاون کے بغیر تارکین وطن کے ان ریلوں کو روکنا انتہائی مشکل ہوگا۔ ہسپانوی حکام فی الحال صورتحال پر پوری طرح قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں اور سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔