World
امریکی صحافی آسٹن ٹائس اغوا کیس: بشار الاسد حکومت کا بڑا انکشاف
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شامی حکومت نے امریکی صحافی آسٹن ٹائس کے اغوا کی منصوبہ بندی کئی ہفتے قبل کی تھی۔ اس گھناؤنے اقدام کی مبینہ طور پر شام کے سابق رہنما بشار الاسد نے خود منظوری دی تھی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک حالیہ اور سنسنی خیز تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صحافی آسٹن ٹائس کا اغوا کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق شامی حکومت کے اعلیٰ حکام نے اس گھناؤنے فعل کے لیے کئی ہفتوں تک تیاریاں کی تھیں تاکہ اس کارروائی کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صحافی کے اغوا کے اس پورے منصوبے کی منظوری شام کے اس وقت کے رہنما بشار الاسد نے خود دی تھی۔ آسٹن ٹائس سنہ 2012 میں شام میں خانہ جنگی کی کوریج کے دوران دمشق کے قریب سے پراسرار طور پر غائب ہو گئے تھے اور طویل عرصے سے ان کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آ سکی تھیں۔
بی بی سی کی اس نئی تحقیق نے اس پرانے اور گمشدہ کیس میں ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔ عالمی سطح پر صحافتی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے مسلسل آسٹن ٹائس کی بازیابی اور اس واقعے کے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس تازہ ترین انکشاف کے بعد ایک بار پھر اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے اور سفارتی حلقوں میں بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں طویل عرصے سے شامی حکومت سے آسٹن ٹائس کی رہائی یا ان کی سلامتی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا تقاضا کرتی رہی ہیں۔ اب جب کہ اس واقعے کے پیچھے باقاعدہ ریاستی منصوبہ بندی اور اعلیٰ ترین سطح پر منظوری کے شواہد سامنے آ رہے ہیں، تو اس سے متاثرہ خاندان اور عالمی برادری کے لیے حقائق تک پہنچنے میں مزید مدد ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔