World
رابرٹ کرافٹ اور ایڈ شیراں کے درمیان امدادی رقم کا تنازع
ارب پتی کاروباری شخصیت رابرٹ کرافٹ نے انکشاف کیا ہے کہ معروف برطانوی گلوکار ایڈ شیراں نے ان سے فلسطینی مقاصد کے لیے بیس لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا کہا تھا۔ یہ بیان مکل مور کی جانب سے ایک ملین ڈالر کیش پلج اور کڑوی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی ارب پتی اور کاروباری شخصیت رابرٹ کرافٹ نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ برطانوی گلوکار ایڈ شیراں نے ان سے فلسطینی مقاصد کے لیے امداد کے طور پر بیس لاکھ ڈالر (دو ملین ڈالر) عطیہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی گلوکار مکل مور کی جانب سے فلسطینی مقاصد کے لیے دس لاکھ ڈالر یعنی ایک ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور انہوں نے اس ارب پتی کو اس رقم کی برابری کرنے کا چیلنج بھی دیا تھا۔ مکل مور کے اس اقدام کے بعد عوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے اور کاروباری شخصیات پر دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
رابرٹ کرافٹ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشہور شخصیات کی جانب سے اس قسم کے مطالبات اور چیلنجز کا مقصد اکثر فلاحی کاموں کے لیے توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ مخیر حضرات کے لیے بھی بڑے مالی فیصلے کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈ شیراں کی طرف سے کی گئی اس باضابطہ گزارش پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ امدادی رقوم کو کس طرح شفاف طریقے سے متعلقہ فلاحی امور تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، شوبز اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے کہ کس طرحے عالمی فنکار دنیا بھر میں جاری بحرانوں کے دوران متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے ارب پتی شخصیات کو میدان میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مکل مور کے اعلان نے جہاں ایک طرف فلسطین کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑائی ہے، وہیں دوسری طرف بڑے کاروباری حلقوں پر بھی مالی امداد فراہم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے مالی مطالبات اور اعلانات آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سطح پر خیراتی اداروں اور عطیات کی تقسیم کے طریقہ کار پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ رابرٹ کرافٹ کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بڑی شخصیات کے درمیان فلاحی مقاصد کے لیے رقوم کی فراہمی اب صرف رضا کارانہ اقدام نہیں رہا بلکہ ایک دباؤ کے تحت ہونے والا عمل بھی بنتا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی میڈیا کی بھی گہری نظر ہے۔