LIVE
Loading Breaking News...

نیپال تبت سیلاب: موسمیاتی تبدیلی پر نئی سائنسی تحقیق سامنے آگئی

News Image
ایک تازہ سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیپال اور تبت میں آنے والے ہولناک سیلاب میں موسمیاتی تبدیلی کا کلیدی کردار تھا۔ اس دلخراش آفت کے نتیجے میں چوبیس اگست کو ہونے والی تباہی میں چودہ سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیپال اور تبت کے علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست ہاتھ تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کے خطرات اور شدت میں اضافے کی بنیادی وجہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی ناہمواری ہے۔ اس خوفناک آفت کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال چھبیس اگست کو آنے والے اس طوفانی سیلاب اور دلدل کی ریلوں نے عجلت میں سب کچھ تہہ و بالا کر ڈالا تھا۔ سرکاری اور فلاحی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق، اس تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں چودہ سو سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ رابطہ سڑکیں ٹوٹ چکی تھیں اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور غیر متوقع مون سون بارشیں ایسے عوامل ہیں جو اس قسم کی تباہیوں کو جنم دے رہے ہیں۔ نیپال اور تبت کا یہ سانحہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ ایک موجودہ حقیقت ہے جو انسانی بستیوں کے لیے روز بروز خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سائنسی برادری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر فوری طور پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اقدامات نہ کیے گئے تو اس طرح کے انسانی المیے مستقبل میں مزید کثرت سے رونما ہو سکتے ہیں۔