LIVE
Loading Breaking News...

روسی انتخابات اور کریملن کی حکمت عملی پر خصوصی رپورٹ

News Image
روسی صدارتی انتخابات کے نتائج کے بارے میں اگرچہ کوئی ابہام نہیں ہے اور کامیابی یقینی ہے، تاہم کریملن کے لیے یہ سیاسی عمل اب بھی بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ اسٹیو روزنبرگ کے مطابق اس مہم اور ووٹنگ کے ذریعے ماسکو انتظامیہ اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے۔
روسی صدراتی انتخابات کے حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان انتخابات کے حتمی نتائج کے بارے میں کسی قسم کے تجسس یا ابہام کی کوئی گنجائش نہیں ہے، تاہم کریملن کے لیے یہ پورا انتخابی عمل ایک انتہائی اہم سیاسی لمحہ حیثیت رکھتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے نامہ نگار اسٹیو روزنبرگ کے مطابق، ووٹنگ کے اس مرحلے سے روس کی موجودہ قیادت کو ملکی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ حکومتی حلقوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس عمل کو بھرپور طریقے سے منظم کیا جائے تاکہ عوام کی حمایت کا ایک واضح اور طاقتور پیغام دنیا بھر میں جائے۔ کریملن کے نقطہ نظر سے ان انتخابات کا بنیادی مقصد صرف نئے صدر کا انتخاب نہیں ہے، بلکہ یہ روس کے سیاسی نظام کی قوت اور استحکام کا مظاہرہ بھی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں انتخابی تقریبات اور مہم کے دوران حکومتی پالیسیوں کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ووٹرز پولنگ بوتھ کا رخ کریں۔ اس دوران میڈیا اور انتظامی مشینری کا بھرپور استعمال کیا جاتا ہے تاکہ نتائج کے حوالے سے کسی بھی قسم کے غیر یقینی عنصر کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ دوسری جانب، ناقدین کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے لیے فضا پہلے ہی تنگ کی جا چکی ہے اور اس انتخابی عمل میں اصل مسابقت کا فقدان ہے۔ اس کے باوجود، کریملن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ بلند رہے تاکہ صدراتی عہدے کے لیے منتخب ہونے والی شخصیت کے پاس عوامی مینڈیٹ کی مضبوط بنیاد ہو۔ بین الاقوامی برادری کی نظریں بھی اس عمل پر مرکوز ہیں کہ کس طرح ماسکو انتظامیہ اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اس انتخابی مشق کو استعمال کرتی ہے۔ عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے اس دور میں روس کے اندرونی سیاسی استحکام کا یہ مظاہرہ کریملن کے لیے سفارتی اور اسٹریٹجک دونوں محاذوں پر اہمیت کا حامل ہے۔ انتخابات کے یہ نتائج اگرچہ پہلے سے طے شدہ ہیں، مگر ان کے اثرات روس کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے اور حکومتی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔