World
افغان جنگی جرائم کی تحقیقات پر برطانوی وزارت دفاع کے کروڑوں پاؤنڈز خرچ
برطانوی فوج کے اسپیشل ایئر سروس یعنی ایس اے ایس کے خلاف افغان جنگی جرائم کی تحقیقات پر اب تک اٹھاون ملین پاؤنڈز کی خطیر رقم خرچ ہو چکی ہے۔ اس تحقیقاتی کمیشن کو جاری رہے ہوئے ساڑھے تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال کوئی حتمی رپورٹ یا نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
برطانوی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برطانوی اسپیشل ایئر سروس یعنی ایس اے ایس کے اہلکاروں کے خلاف افغان جنگ میں مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات پر اب تک اٹھاون ملین برطانوی پاؤنڈز کی بھاری رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ یہ تحقیقاتی عمل اس بات کا جائزہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا کہ آیا برطانوی فوج کے چوٹی کے دستوں نے افغانستان میں اپنے قیام کے دوران جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی یا نہیں۔ اس حساس معاملے پر عوام اور قانون سازوں کی جانب سے مسلسل شفافیت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اس تحقیقاتی کمیشن کو قائم ہوئے اور باقاعدہ طور پر کام کرتے ہوئے ساڑھے تین سال سے زائد کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، تاہم اس کے باوجود تاحال کوئی بھی حتمی یا ابتدائی نتیجہ شائع نہیں کیا جا سکا ہے۔ طویل تاخیر اور مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے برطانوی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران اتنی بڑی رقم کا خرچ ہونا اور اس کے نتائج کا تاحال منظر عام پر نہ آنا ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا ضیاع معلوم ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف تحقیقاتی ٹیم کا مؤقف ہے کہ معاملے کی حساسیت اور پیچیدگی کی وجہ سے گہرائی سے جانچ پڑتال ناگزیر ہے۔
دوسری جانب وزارت دفاع نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور تحقیقاتی کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تمام قانونی اور انتظامی مراحل کو احتیاط کے ساتھ طے کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارروائی میں توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے اور اخراجات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی تاریخ کی اس طویل اور مہنگی ترین تحقیقات کے نتائج کب تک سامنے آتے ہیں اور آیا اس سے افغانستان میں پیش آنے والے مبینہ واقعات کی حقیقت واضح ہو پاتی ہے یا نہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اس پوری پیش رفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ انصاف کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔