Pakistan
کوئٹہ کوئلہ کان دھماکہ: ریسکیو آپریشن اختتام پذیر، ہلاکتوں میں اضافہ
کوئٹہ میں کوئلے کی کان میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے جہاں سے مزید لاشیں برآمد ہونے کے بعد مجموعی ہلاکتیں بڑھ گئی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کوئٹہ کے قریب کوئلے کی ایک کان میں پیش آنے والے دلخراش حادثے کے بعد جاری سرچ اور ریسکیو آپریشن باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق حادثے کے مقام سے آخری دو لاشیں بھی نکال لی گئی ہیں جس کے بعد اس المناک سانحے میں جان بحق ہونے والے کان کنوں کی کل تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس حادثے کے نتیجے میں کم از کم بتیس افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ملی تھیں تاہم امدادی کارروائیوں کے دوران مزید لاشیں ملنے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر چونتیس تک پہنچ گئی ہے۔ اس المناک واقعے نے پورے ملک بالخصوص کان کنی کے شعبے سے وابستہ افراد کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کان کے اندر زہریلی گیس جمع ہونے کے باعث یہ خوفناک دھماکہ ہوا تھا جس نے کان کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دھماکے کے فوری بعد ریسکیو ٹیمیں، مائننگ حکام اور رضاکار موقع پر پہنچ گئے تھے اور انتہائی مشکل حالات اور محدود وسائل کے باوجود دن رات امدادی کارروائیاں جاری رکھییں۔ کان کے اندر آکسیجن کی کمی اور ملبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم تمام لاشوں کو باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی گئی ہے۔ دوسری طرف شانگلہ اور دیگر علاقوں میں جہاں سے یہ بدقسمت کان کن تعلق رکھتے تھے، شدید سوگ کی فضا پائی جاتی ہے۔ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے آبائی علاقوں میں جب ان کی میتیں پہنچیں تو کہرام مچ گیا اور ہر آنکھ اشک بار نظر آئی۔ مقامی عمائدین اور سول سوسائٹی کے افراد نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کا سخت ترین جائزہ لیا جائے تاکہ غریب مزدوروں کو اس طرح کے جان لیوا حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کی شفاف انکوائری کا حکم بھی دے دیا گیا ہے تاکہ غفلت برتنے والے ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔