LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ویزا دینے سے انکار کر دیا

News Image
امریکہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے باعث وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ مسلسل دوسرے سال پیش آنے والے اس واقعے پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔
امریکہ کی حکومت نے ایک بار پھر فلسطینی صدر محمود عباس کو ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کرنے سے قاصر رہیں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب واشنگٹن کی جانب سے فلسطینی صدر کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جو کہ عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ بین الاقوامی مبصرین اسے مش مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس دنیا بھر کے رہنماؤں کو اکٹھا کرتا ہے جہاں فلسطینی کاز اور خطے میں امن کے قیام کے حوالے سے اہم تقاریر اور مباحثے ہونا طے تھے۔ صدر محمود عباس نے اس فورم کے ذریعے عالمی برادری کو فلسطینی عوام کی مشکلات اور غزہ سمیت دیگر علاقوں کی صورتحال سے براہ راست آگاہ کرنا تھا، تاہم ویزا نہ ملنے کے باعث وہ اب اس اہم موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام دو طرفہ سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی سفارت کاری کے اصولوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ ماضی میں بھی ایسے مواقع پر جب فلسطینی قیادت کو امریکہ آنے سے روکا گیا تو عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی تھی کہ آیا میزبان ملک کو بین الاقوامی تنظیم کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے آنے والے رہنماؤں کو روکنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے اس معاملے پر مزید بحث اور ردعمل سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے عالمی تنظیم کے رکن ممالک کے حقوق اور سفارتی استثنیٰ کے سوالات دوبارہ سر اٹھانے لگے ہیں۔