World
امریکہ کا فلسطینی عہدیداروں پر ویزا پابندیوں میں توسیع کا اعلان
امریکہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل فلسطینی عہدیداروں پر عائد ویزا پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کو مسلسل دوسرے سال بھی اس پابندی کا سامنا ہے۔
امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے قریب آتے ہی ایک اہم سفارتی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس کے تحت فلسطینی عہدیداروں پر عائد ویزا پابندیوں میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں دنیا بھر کی توجہ اس وقت مقبوضہ فلسطین اور امریکہ کے تعلقات پر مرکوز ہو گئی ہے، جبکہ سفارتی سطح پر اس اقدام کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، فلسطینی صدر محمود عباس بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہیں مسلسل دوسرے سال اس پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس قسم کی پابندیوں کا نفاذ عموماً سفارتی سرگرمیوں اور عالمی فورمز پر ممالک کے درمیان کشیدگی کا عکاس ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم بین الاقوامی مسائل پر بات چیت کے لیے سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں دنیا بھر کے رہنما بین الاقوامی امن، سلامتی اور انسانی حقوق سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں فلسطینی قیادت کی باضابطہ شرکت پر پابندی کا برقرار رہنا عالمی سفارتکاری کے حوالے سے ایک انتہائی حساس موضوع بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات سے مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کے حل کی کوششوں اور عالمی اداروں میں منصفانہ نمائندگی کے اصولوں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ دریں اثنا، فلسطینی حکام اور بین الاقوامی قانون کے حامی حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر ٹکی ہوئی ہیں کہ اس سفارتی رکاوٹ کے باوجود فلسطینی مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کیا متبادل لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے، اور آیا آنے والے دنوں میں امریکہ اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوئی گنجائش نکلتی ہے یا نہیں۔