World
آزاد کشمیر میں مبینہ کریک ڈاؤن، بھارت کا عالمی تحقیقات کا مطالبہ
بھارت نے پاکستان پر آزاد کشمیر میں مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور رپورٹس کے مطابق اس صورتحال پر دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (آزاد کشمیر) میں مبینہ طور پر جاری سخت ریاستی کریک ڈاؤن اور سیکیورٹی فورسز کی مبینہ کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی حکام اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، خطے میں حالیہ دنوں کے دوران مظاہرین کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال اور گرفتاریوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے، جس پر دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی جا रही ہے۔
مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور اخبارات کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں حقوقِ نسواں، معاشی مطالبات اور سیاسی آزادی کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنان کو شدید ریاستی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور اور دیگر مقامات پر احتجاج کرنے والے کچھ کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے، جس سے اس تنازع کی بازگشت پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔
دوسری جانب، بھارتی وزارتِ خارجہ اور اعلیٰ حکام نے اس صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے اسلام آباد پر تنقید کی ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مبینہ تشدد اور کریک ڈاؤن کا نوٹس لیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات سے خطے میں پہلے سے موجود سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم آزاد کشمیر کے مقامی حالات اور زمینی حقائق کے حوالے سے مختلف ذرائع کے دعوے متضاد ہیں۔
خطے کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس تمام صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور پرامن سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگائے جانے کو مسترد کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس معاملے پر مزید سفارتی ردعمل آنے کا امکان ہے کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں خطے میں شفاف تحقیقات اور معلومات تک رسائی کی مسلسل مانگ کر رہی ہیں۔