LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور حوثیوں کا خفیہ معاہدہ، بحیرہ احمر میں جہاز رانی بحال

News Image
یمن کے حوثیوں نے واشنگٹن کی جانب سے فوجی کارروائی نہ کرنے کی شرط پر امریکی بحری جہازوں کو بحیرہ احمر میں بلا روک ٹوک گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس مبینہ خفیہ معاہدے سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آنے اور تجارتی راستوں کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے۔
موصول ہونے والی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان ایک مبینہ خفیہ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا مقصد بحیرہ احمر کے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور سمندری تجارت کو بحال کرنا ہے۔ اس سفارتی پیشرفت کے تحت حوثی گروپ نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ امریکی تجارتی اور جنگی جہازوں کو بحیرہ احمر سے بلا روک ٹوک گزرنے کی اجازت دیں گے۔ اس معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ واشنگٹن اس کے بدلے میں حوثی پوزیشنز کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا فضائی حملوں سے گریز کرے گا۔ یاد رہے کہ پچھلے کئی ماہ سے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے پر حوثی حملوں کے باعث بین الاقوامی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی تھی اور دنیا بھر کی بڑی شپنگ کمپنیوں کو طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے تھے۔ اس نئی مفاہمت کو خطے میں امن قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ فریقین کی جانب سے تاحال اس کی سرکاری طور پر توثیق نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس مبینہ ڈیل کے مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے نافذ العمل ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف یمن میں جاری طویل جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی منڈی میں تیل اور دیگر اشیاء کی ترسیل کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ خطے میں امریکی افواج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کا خطرہ بھی کافی حد تک ٹل جائے گا، جس سے طویل عرصے سے سکیورٹی کے بحران کا شکار رہنے والے اس اہم آبی راستے پر معمول کی بحری نقل و حرکت بحال ہو سکے گی۔