World
اقوام متحدہ کے ماہرین کا ایران میں امریکی حملوں کو جنگی جرائم قرار دینے کا انکشاف
اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ مشن نے کہا ہے کہ ایران میں کیے جانے والے امریکی حملوں کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد ملے ہیں۔ مشن نے خطے میں فوری طور پر جھڑپیں بند کرنے اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین اور فیکٹ فائنڈنگ مشن نے حالیہ تحقیقات میں یہ انکشاف کیا ہے کہ ایران پر کیے جانے والے امریکی فضائی حملوں کے دوران ایسے ٹھوس شواہد ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائیاں ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں متعدد معصوم شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جس نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کے دوران عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت لازمی ہے لیکن ایران میں ہونے والے نقصانات نے ان قوانین کی خلاف ورزی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے متعلقہ مشن نے تمام فریقین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیوں کو بند کریں۔ مشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خطے میں مزید خون خرابے کو روکنے کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران میں ہونے والے جانی نقصان کی شفاف بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس پیشرفت کے بعد بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ فیکٹ فائنڈنگ مشن مسلسل خطے کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلی سفارشات بھی پیش کی جا سکتی ہیں جن سے مشرق وسطیٰ کے بحران کو حل کرنے میں مدد ملنے کی توقع کی جارہی ہے۔